انڈونیشیا: ہلاکتوں کی تعداد 832 تک پہنچ گئی
30 ستمبر 2018انڈونیشیا میں ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آٹھ سو بتیس افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کام جاری ہیں جبکہ دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ طبی ذرائع نے اتوار کے دن بتایا ہے کہ ان قدرتی آفات کی وجہ سے دس ہزار سے زائد بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
جمعے کے روز 7.5 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی کی لہریں پانچ فٹ تک اٹھیں، جس کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ آبادی والے شہر پالو میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اسی طرح اس صوبے سولاویسی کے ڈونگلہ شہر میں بھی تباہی پھیلی ہے اور اس شہر کی آبادی تین لاکھ کے قریب ہے۔ اس شہر سے گزرنے والے ایک دریا کا پُل ٹوٹ گیا تھا اور پانی آبادی میں داخل ہو گیا تھا۔
انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کالا نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد ’ہزاروں‘ میں ہو سکتی ہے کیوں کہ ابھی تک بہت سے مقامات تک رسائی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ سب سے متاثرہ علاقے پالو میں ایک پینتیس سالہ خاتون کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ بہت مشکل وقت ہے۔ ہر منٹ بعد ایمبولینس کسی کی لاش لا رہی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت ہو چکی ہے جبکہ چھوٹی دکانوں اور مارکیٹوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔‘‘
دریں اثناء انڈونیشیا کے صدر یوکو ویدودو اتوار کے روز خود متاثرہ علاقے میں پہنچے تاکہ صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لیا جا سکے۔ انڈونیشیا کی نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے اہلکار محمد سیوگی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے ملبے تلے دبے افراد کی آوازیں سنی ہیں کہ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشنری کی اشد ضرورت ہے۔ میرا اسٹاف کام جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ہم میں ملبہ اٹھانے اور اتنے بڑے پیمانے پر صفائی کرنے کی سکت نہیں ہے۔‘‘
انڈونیشیا میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے ایک ترجمان سٹوپو پورو نوگورو کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس وقت یہ سونامی آیا، اس وقت پالو میں ایک بیچ فیسٹیول جاری تھا اور اس فیسٹیول میں شریک سینکڑوں افراد کی قسمت کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔
دریں اثناء ریڈ کراس جیسی انڈونیشیا میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے بھی امدادی کاموں میں مدد فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ زلزلے اور سونامی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں عمارتیں اور مساجد منہدم ہو کر رہ گئیں ہیں۔
ا ا / ع ب (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)