جرمنی میں شامی مہاجر بچوں پر حملہ
8 اکتوبر 2016خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کی شام مشرقی شہر ڈریسڈن سے پچیس کلومیٹر دور واقع زیبنٹِس نامی شہر میں تین شامی مہاجر بچوں کو مارا پیٹا گیا۔ اس دوران مبینہ طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان انتہا پسندوں نے نعرے بازی کی اور چاقو بھی لہرائے۔
جرمنی کے شہر باؤٹسن میں پناہ گزینوں اور جرمن انتہا پسندوں میں تصادم
جرمنی میں مسلمانوں کو پناہ دینے پر فوری پابندی کا مطالبہ
’جرمنی مہاجرین کی پناہ گاہوں کے تحفظ میں ناکام ہو رہا ہے‘
پولیس نے بتایا ہے کہ جن مہاجر لڑکوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، ان کی عمریں پانچ، آٹھ اور گیارہ برس ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا، جب یہ بچے ایک بس سے اترے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
زیبنٹِس کی پولیس کے ترجمان نے فوری طور پر تصدیق نہیں کی کہ حملہ آوروں کی قومیت کیا ہے۔ پولیس کے بیان کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کون تھے۔
پولیس کے مطابق جہاں تشدد کا یہ واقعہ رونما ہوا تھا، وہاں نزدیک ہی پندرہ تا بیس برس کے کچھ نوجوان دیکھے گئے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ اس حملے میں ملوث تھے۔
یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران میں گزشتہ برس ایک اعشاریہ ایک ملین مہاجرین جرمنی پہنچے۔ اس وجہ سے بالخصوص جرمنی کے مشرقی علاقوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ بڑی تعداد میں مہاجرین کی جرمنی آمد کے باعث جرمنوں کی مقامی ثقافت اور مذہب کو خطرات کو لاحق ہو سکتے ہیں۔
مہاجرین کے اسی بحران کی وجہ سے جرمنی میں مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی بالخصوص جرمنی کے مشرقی علاقوں میں عوامی حمایت میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمنی کے مشرقی حصے میں بے روزگاری مغربی حصے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔