چلی کے زلزلے میں ہلاکتیں 700 سے تجاوز کر گئیں
1 مارچ 2010مشیل باچیلیٹ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 708ہو چکی ہے۔ انہوں نے اتوار کو بتایا کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ماؤلے کے علاقے میں ہوئی ہیں، جن کی تعداد 541 ہے۔ چلی کی صدر کا کہنا ہے کہ متعددافراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور یہ صورت حال ہلاکتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت متعدد ممالک نے سانتیاگو حکام کو مدد کی پیش کی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا ہے کہ برلن حکومت چلی کی مدد کو تیار ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ چلی حکومت کہے تو امریکہ متاثرین کے لئے فوری امداد روانہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب سانتیاگو حکام نے ابھی تک بین الاقوامی امداد کی کوئی پیش کش قبول نہیں کی۔ وزیر خارجہ ماریانو فرنینڈیز نے کہا ہے کہ ضرورت کا اندازہ لگائے بغیر پہنچنے والی مدد کم ہی مفید ثابت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب تک کی صورت حال ان کے کنٹرول میں ہے۔چلی حکام نے متاثرہ علاقوں کے لئے متعدد ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت سانتیاگو کا ہوائی اڈہ کھول دیا گیا ہے۔ اس کا ایک ٹرمینل اور کنٹرول ٹاور زلزلے سے متاثر ہوا تھا۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 8.8 تھی، اور اسے انسانی تاریخ کے شدید ترین زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مواصلات کا نظام تباہ ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو بعض علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس سے متعدد علاقوں میں عمارتیں، سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے۔ متاثرہ گھروں کی تعداد 15 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اس زلزلے کے بعد تقریبا 50 ریاستوں نے سونامی وارننگ جاری کی تھی۔
رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے
ادارت: افسر اعوان