یمن کے پرتشدد حالات اور جان کیری کا سعودی عرب کا دورہ
15 مئی 2016امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری شام، یمن اور لیبیا کے تنازعات پر خصوصی بات چیت کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ وہ اِس دورے کے بعد یورپ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ آج سعودی شہر جدہ میں امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یمن کے حالات کو خاص طور پر زیر بحث لایا گیا۔ اِس ملاقات میں جان کیری نے سعودی شاہ کے ساتھ شام اور لیبیا میں بھی پرتشدد حالات پر قابو پانے کی بین الاقوامی کوشش کا تذکرہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کی کوشش ہے کہ جہاں ایک طرف یمنی حالات میں بہتری پیدا ہو وہیں وہ شام کے لیے بھی قیام امن کو ممکن بنا سکیں۔
سعودی شاہ سے ملاقات کے علاوہ کیری اپنے ایک دن کے قیام کے دوران سعودی ولی عہد، نائب ولی عہد اور وزیر خارجہ عادل الجبیر سے بھی ملاقاتوں میں ایران سمیت دوسرے علاقائی معاملات کو زیر بحث لائے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ یمن، شام اور لیبیا میں پرتشدد شورش زدہ حالات کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی کی صورتحال برقرار ہے۔ سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے اتوار ہی کے روز کیری ویانا کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ وہ ویانا میں لیبیا کے معاملات پر اطالوی وزیر خارجہ سے میٹنگ کریں گے اور شامی تنازعے پر اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔
دوسری جانب یمن کے بندرگاہی شہر المکلا میں ایک خود کش بمبار کے حملے میں کم از کم پچیس زیر تربیت پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اِس حملے کی ذمہ داری جنوبی یمن میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔ خود کش حملہ آور نے اپنی بارودی جیکٹ زیرتربیت پولیس اہلکاروں کی ایک قطار میں کھڑے ہو کر اڑائی۔ اِس حملے میں ساٹھ دیگر رنگروٹ زخمی بھی ہوئے۔ المکلا کے بندرگاہی شہر پر یمنی فوج نے چند روز قبل گزشتہ ماہ کے دوران القاعدہ کے جہادیوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا۔
رواں ہفتے کے دوران المکلا شہر میں کیا گیا یہ دوسرا خود کش حملہ ہے۔ اِس شہر پر القاعدہ نے قبضہ کر کے تقریباً ایک برس تک حکومت بھی کی تھی۔ المکلا کو ایک جامع عسکری منصوبہ بندی کے بعد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی صدر منصور ہادی کی فوج نے اپنے عسکری اتحادی ملک متحدہ عرب امارات کے زمینی دستوں کی معاونت کے ساتھ چڑھائی کرتے ہوئے القاعدہ کے جہادیوں کو بیدخل کر دیا تھا۔ اسی شہر پر قبضے کے بعد ہی امریکی فوج نے یمن میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کا بھی اعتراف کیا تھا۔