افغانستان میں داعش کی جہادی سرگرمیوں کا فرقہ ورانہ پہلو
26 جولائی 2016افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کا موقف ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہزارہ برادری شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق داعش کی اس دھمکی کا اندازہ لگانا قدرے مشکل ہے کیونکہ یہ تنظیم بظاہر پاکستانی سرحد سے متصل ایک چھوٹے سے علاقے میں فعال ہے۔
داعش کے ایک کمانڈر عمر خراسانی نے کہا کہ ہفتے کے روز کابل میں ہزارہ برادری پر خود کش حملہ صرف اس لیے کیا گیا تھا کہ ان کے کچھ افراد نے دمشق حکومت کو تعاون کی پیشکش کی تھی۔ داعش ایک سنی شدت پسند تحریک ہے اور یہ گروہ عراق میں بھی شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے چلے آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان سے بہت سے ہزارہ افراد ایران کے راستے شام پہنچے ہیں اور وہاں اسد دستوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں عمر خراسانی نے روئٹرز کو بتایا ، ’’جب تک یہ شام جانابند نہیں کریں گے اور ایران کی غلامی سے آزاد نہیں ہوں گے، تب تک ہم ان پر حملے کرتے رہیں گے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں اور حملے جاری رہیں گے۔‘‘ یہ بات انہوں نےکسی نا معلوم مقام سے روئٹرز سے ٹیلیفون کے ذریعے باتیں کرتے ہوئے کہی۔
کابل انتظامیہ کا موقف ہے کہ داعش کے خلاف انتہائی سخت کارروائی جاری ہے۔ ایک سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران اس تنظیم کے کئی سو شدت پسندوں کو صوبہ ننگر ہار میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔
افغانستان کا یہ صوبہ اس تنظیم کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ آج منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آئی ایس کے 122 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔
افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے دستوں نے کابل انتظامیہ کو بتایا ہے کہ ملک میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد ایک سے تین ہزار کے درمیان ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے جنگجو ہیں جو، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور افغان طالبان سے منحرف ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں موجود داعش کے زیادہ تر ارکان کا تعلق اورکزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔