ایم کیو ایم کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا ؟
28 دسمبر 2010مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور کراچی میں موجود دیگر رہنماؤں کے احتجاج میں وہ جارحیت نہیں، جو ماضی میں اس جماعت کا خاصہ رہی ہے۔
ایم کیوایم کے مرکزی رہنما رضا ہارون اور فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ملک میں سیاسی عدم استحکام نہیں چاہتی۔ ان کی جماعت صرف وزارتوں سے الگ ہوئی ہے اور وہ بدستور اسمبلی میں حکومتی نشستوں پر ہی بیٹھیں گے۔ فیصل سبزواری کے بقول اگر ڈاکٹر ذوالفقار کے حوالے سے ایم کیو ایم کے تحفطات دور نہ کئے گئے تو وفاقی وزارتوں کے بعد صوبائی وزارتوں سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔
جب فیصل سبزواری سے پوچھا گیا کہ ان کے اس اقدام سے یہ تاثر نمایاں ہورہا ہے کہ ایم کیوایم حکومت سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتی بلکہ چند اہم نوعیت کے مطالبات پورے کرانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔؟ اس حوالے سے فیصل سبزواری کا جواب تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ ایم کیوایم ایک جمہوری سوچ رکھنے والی عوامی جماعت ہے۔ ان کی جماعت میں ہر فیصلہ عوام سے رائے لینے کے بعد کیا جاتا ہے۔
ایم کیوایم نے وفاقی وزارتوں سے علیحدگی کا اعلان کرکے ملک بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی نسبت ایم کیو ایم اپنے کارڈز نہایت احیتاط کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ ایک طرف تواس جماعت کے رابطے مسلم لیگ ن، جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ ق سے برقرار ہیں، جبکہ دوسری طرف یہ جماعت کسی ٹھوس جواز کی بنیاد پر حکومت سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔ ایسی صورتحال میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھی اور سندھ کے وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیانات نے ایم کیو ایم کی مشکل آسان کردی ہے۔ مگر ایم کیوایم پھر بھی جلد بازی میں حکومت سے علیحدہ نہیں ہوگی۔
روائتی طور پر وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کراچی پہنچ گئے ہیں ۔ وہ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کے بعد صدر آصف علی زرداری سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ عین ممکن ہے کہ عارضی طور پر اس مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے لیکن ایم کیوایم نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیاسی ہلچل کے پیچھے وہی نادیدہ قوتیں سرگرم ہیں، جو ماضی میں حکومتوں کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ایم کیوایم سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ان " نادیدہ قوتوں" کے رابطے میں ہیں۔
رپورٹ: رفعت سعید، کراچی
ادارت: امتیاز احمد