بحیرہ روم میں کئی سو تارکین وطن کے ڈوبنے کا خدشہ
5 اگست 2015اطالوی حکام نے بتایا کہ انہیں لیبیا کے ساحلوں سے 15 نوٹیکل میل کے فاصلے پر موجود ایک کشتی کی جانب سے ہنگامی پیغامات موصول ہوئے تھے۔ اس کے فوری بعد ڈگنٹی ون اور آئرش نیوی کے لے نیام نامی جہازوں کو فوری طور پر اس جانب روانہ کیا گیا تاہم جب تک یہ جہاز وہاں پہنچے اس وقت تک مہاجرین کی کشتی الٹ چکی تھی۔ آئرش نیوی کے کپتان کے مطابق قریب ڈیڑھ سو افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
پناہ گزینوں کے معاملات میں اطالوی حکام کے ساتھ تعاون کرنے والی نوال صوفی نے بتایا کہ بدھ کی صبح ان سے مشکلات میں گھری ایک کشتی کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تھا، جس میں تقریباً چھ سو افراد سوار تھے۔ کوسٹ گارڈ کے ترجمان فیلیپو مارینی کے مطابق، ’’میرے خیال میں یہ وہی کشتی ہے، جو غرق ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈوبنے والوں کو بچانے اور ان کی تلاش کے لیے مزید تین جہاز روانہ کر دیے گئے ہیں۔
ٹائمز مالٹا کے مطابق وسیع پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مزید یہ کہ ڈاکٹروں کی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی ایک امدادی کشتی جائے حادثہ کی جانب روانہ ہو چکی ہے جبکہ ڈوبنے والوں کو بچانے کے لیے مزید تین امدادی کشتیاں وہاں پہنچنے والی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حادثہ زوارہ کے پانیوں میں شمال کی جانب پیش آیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ گزشتہ برس اپریل میں اطالوی جزیرے لمپے ڈوسا کے قریب پیش آنے والے واقعےکے بعد اب تک کا سب سے ہلاکت خیز حادثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس حادثے میں تقریباً آٹھ سو مہاجرین ڈوب گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد یورپی یونین نے لیبیا کے قریب ہی مہاجرین کو روکنے اور بحیرہ روم میں انہیں بچانے کے حوالے سے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔
حکام کے مطابق اس سال ابھی تک دو ہزار سے زائد افراد بحیرہ روم کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کر چکے ہیں۔