بحیرہ روم یونین کا قیام
14 جولائی 2008پیرس میں بحیرہ روم پر آباد ملکوں کی ایک کانفرنس کے دوران بحیرہ روم یونین کا سرکاری قیام عمل میں آگیا ہے۔ فرانس اور مصر نے یونین کی صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں ہیں۔ تینتالیس ممبر ممالک پر مُشتمل اس یونین میں ہونے والے فیصلے تقریباٍ آٹھ سو ملین انسانوں کے بہترمُستقبل کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔
بحیرہ روم کی اس یونین کے تینتالیس بنیادی اراکین میں یورپی یونین کے ستائیس ممبرممالک سمیت افریقہ اور مشرقِ وسطی کی ریاستیں شامل ہونگی۔ مصر، شام، اُردن، لبنان، اسرائیل، مراکش، الجیریا، مُوریطانیہ ، تیونس اور خود مُختار فلسطینی ریاست اس کی بانی ریاستوں میں شامل ہیں۔ تاہم لیبیا کے حکومتی سربراہ معمرالقزافی بحیرہِ روم یونین کے قیام سے خوش نہیں ہیں۔ اُنھوں نے خدشات ظاہرکئے ہیں کہ یہ پروجیکٹ عرب اورافریقی ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے اورانہیں تقسیم کرنے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بحیرہ روم یونین کے قیام کے پیرس منعقدہ اجلاس میں اُردن کے بادشاہ عبداللہ اورمراکش کے بادشاہ مُحمد بھیِ شرکت کی۔ اجلاس میں شریک جرمن چانلسر آنگیلا میرکل نے اس موقع پر پہلی بار شام کے صدر بشارالاسد کے ساتھ ملاقات کی ۔
ترکی کواس بات کا خطرہ ہے کہ یورپی یونین کے موجودہ صدرملک فرانس کے سربراہ سارکوزی اپنے اس پروجیکٹ کے ذریعے یورپی یونین میں انقرہ کی رُکنیت کی مُخالفت کریں گے۔ اس کے باوجود ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پیرس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کی اورجرمن چانسلر کی ملاقات خاصے کشیدہ ماحول میں ہوئی کیونکہ مشرقی ترکی کے پہاڑی علاقوں سے کرد باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونےوالے تین جرمن باشندوں کی رہائی اب تک عمل میں نہیں آئی ہے۔
فرانسیسی صدر کے اس پروجیکٹ میں البانیہ وکروشیا ،بوسنیا ہرزگووینا، مونٹینیگرو اورموناکو بھی شامل ہیں۔سارکوزی بحیرہ روم پر قائم ممالک کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے،ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے، پینے کے صاف پانی اورشمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس نصب کرنے کے لئے نت نئے پروجیکٹس شروع کروانا چاہتے ہیں۔ اس یونین کے قیام سے مشرقِ وسطی کے بُحران زدہ علاقے کی اہم ریاستوں کے سربراہاں کوایک میز پرلانا یقینا ایک غیر معمولی قدم ہے۔