1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمن عوام کو اشیائے خوراک کے ضیاع پر گہری تشویش

5 اگست 2023

جرمن عوام کی بہت بڑی اکثریت کی رائے میں جرمنی میں بہت زیادہ اشیائے خوراک ضائع کر دی جاتی ہیں اور یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ یہ بات جرمن انفارمیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کی ملکی تنظیم کے ایک تازہ سروے میں سامنے آئی۔

https://p.dw.com/p/4UneA
دنیا بھر میں ہر سال جو کئی ملین ٹن اشیائے خوراک یا پکے پکائے کھانے ضائع کر دیے جاتے ہیں، ان سے کروڑوں انسانوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے
دنیا بھر میں ہر سال کئی ملین ٹن اشیائے خوراک یا پکے پکائے کھانے ضائع کر دیے جاتے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa/U. Baumgarten

جرمنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کی وفاقی تنظیم کا نام بِٹکوم (Bitkom) ہے اور اس کی طرف سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک حالیہ ملک گیر جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ 93 فیصد باشندے اس بات پر ناخوش ہیں کہ یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت میں بہت بڑی مقدار میں اشیائے خوراک ضائع کر دی جاتی ہیں اور کوڑے میں پھینک دی جاتی ہیں۔

سعودی عرب میں خوراک کا فی کس سالانہ ضیاع عالمی اوسط کے دو گنا سے بھی زیادہ

خوراک کی عالمی صورتحال

اس سروے میں 68 فیصد رائے دہندگان نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اشیائے خوراک کے اس ضیاع کی روک تھام اور وسائل کے زیادہ دانش مندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کی سوچ کی ترویج کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور آن لائن سٹور بڑا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جی ایم فوڈ، کیا خوراک کی مستحکم پیداوار کا واحد راستہ؟

دس فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ وہ اشیائے خوراک کی آن لائن خریداری کا تجربہ کر چکے ہیں یا باقاعدگی سے اشیائے خوراک کی آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔

چھیالیس فیصد شہریوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی آن لائن شاپنگ سے وقت بھی بچتا ہے اور رقم بھی۔

اس کے علاوہ 43 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ وہ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں وہ اپنے لیے اشیائے خوراک کی آن لائن شاپنگ کرنے لگیں گے۔

جرمنی میں ایک گھر میں کوڑے میں پھینک دی جانے والی ڈبل روٹی اور سلاد
گھریلو کوڑے میں پھینک دی جانے والی اشیائے خوراک میں روٹی، ڈبل روٹی اور بریڈ رول بھی شامل ہوتے ہیںتصویر: Mario Ho/mhphoto/imago images

ضیاع سے بچنے کا طریقہ

بِٹکوم کے مطابق ڈیجیٹل سٹوروں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے تجارت کی وجہ سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ایسی اشیائے خوراک بھی بہت اچھی حالت میں اور سستے داموں خریدی جا سکتی ہیں، جو مختلف شہروں اور قصبوں میں قائم سپر مارکیٹوں کی طرف سے عموماﹰ پھینک دی جاتی ہیں۔

یورپی یونین میں دو نئے کیڑوں کو انسانی غذا کا حصہ بنانے کی منظوری

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر کھانے پینے کی مصنوعات کی صنعتی پیکنگ میں کوئی خامی رہ جائے، مگر وہ اشیائے خوراک بالکل ٹھیک اور تازہ ہوں، تو بھی سپر مارکیٹیں انہیں پھینک دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر سپلائی فروخت سے زیادہ ہو تو بھی خراب ہو جانے کے خطرے کی وجہ سے ایسی اشیائے خوراک کوڑے میں پھینک دینے سے کہیں بہتر یہ ہوتا ہے کہ انہیں آن لائن فروخت کر دیا جائے۔

جرمنی میں گھریلو نامیاتی کوڑے کے ایک کنٹینر میں پھینک دی جانے والی سبزیاں
ہونا تو یہ چاہیے کہ اشیائے خوراک خریدی ہی اتنی جائیں، جتنی خراب ہونے سے پہلے استعمال ہو سکیںتصویر: Christiane Raatz/dpa/picture alliance

’جو کھایا نہیں گیا، وہ ضائع ہی ہوا‘

بِٹکوم کی اس شعبے کی ماہر خاتون یانا مورٹس نے کہا کہ جرمن صارفین کو اس حوالے سے خود کو باخبر بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان درجنوں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو بالکل تر و تازہ اشیائے خوراک اپنے کم کاروباری اخراجات کے باعث کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں اور پھر جو کچھ خریدا جائے، وہ صارفین کے گھروں تک بھی پہنچا دیتے ہیں۔

کچرے سے غذائی اشیا نکال کر کھانےکی اجازت، کیا فوڈ ویسٹ میں کوئی کمی آئے گی؟

یانا مورٹس نے کہا کہ کھانے پینے کی ہر وہ شے، وہ پھل اور وہ سبزی جو کھانے والے کی پلیٹ تک پہنچنے کے بجائے کوڑے کے ڈبے میں پہنچ جائے، وہ ناانصافی ہے اور سماجی سطح پر غیر ذمے دارانہ رویہ بھی۔

دیگر مغربی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی کوڑے میں پھینک دی جانے والی اشیائے خوراک میں سب سے زیادہ پھل اور سبزیاں ہوتے ہیں
ضائع کر دی جانے والی اشیائے خوراک میں سب سے زیادہ پھل اور سبزیاں ہوتے ہیںتصویر: Ute Grabowsky/photothek/picture alliance

انہوں نے کہا کہ اشیائے خوراک کے ضیاع سے صرف ایسی اشیاء ہی ضائع نہیں ہوتیں بلکہ وہ وسائل بھی ضائع ہو جاتے ہیں، جو کوڑے میں پھینک دیے گئے پھلوں اور سبزیوں کو اگانے کے لیے استعمال ہوئے ہوتے ہیں۔

یوکرینی جنگ اور زرعی اجناس، پانچ اہم حقائق

یانا مورٹس نے اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سپر مارکیٹ یا کوئی صارف ایک پورا تربوز کوڑے میں پھینک دے، تو اس کی خریداری کے لیے ادا کردہ رقم ضائع ہو جانے کے ساتھ ساتھ وہ سارا پانی، توانائی اور زرعی کوششیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں، جو اس تربوز کو اگانے کے لیے صرف کی گئی تھیں۔

بِٹکوم کے اس نمائندہ سروے کے لیے جرمنی بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سولہ برس سے زائد عمر کے ایک ہزار سے زائد صارفین سے ان کی تفصیلی رائے معلوم کی گئی۔

م م / ع ا (کے این اے)

رزق بھی ہتھیار بن گیا