طاہر القادری نے ایف آئی آر کو مسترد کردیا
28 اگست 2014پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اپنی جماعت کے زیر اہتمام دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں وزیر اعظم نواز شریف کا نام شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔
طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ان کے 15 کارکنوں کو قتل کیا گیا لیکن حکومت نے معمول کی ایک ایف آئی آر درج کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ان کے کارکنوں کے خلاف جتنے بھی مقدمے درج کیے ان میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔ طاہرالقادری کا مزید کہنا تھا، ’’حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں اور اب کچھ اور ہوگا۔‘‘
طاہرالقادری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خاتمے کے لیے حکومت کو جو ’حتمی‘ ڈیڈ لائن دے رکھی تھی وہ گزشتہ شام چھ بجے ختم ہو گئی تھی تاہم اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے 24 گھنٹے کے بعد بھی طاہر القادری دھرنے کے شرکاء کو انقلاب کی نوید سنانے کے لیے جلد اہم اعلان کرنے کا اعادہ کرتے رہے۔ انہوں نے آج شام دھرنے کے شرکاء پر مشتمل عوامی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
حکومتی وزراء اور پنجاب پولیس کے افسران کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سمیت سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نامزد تمام 21 افراد کا نام ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے شاہراہ دستور پر رکھے کنٹینر میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ عمران خان سے بات چیت مثبت رہی ہے اور امید ہے کہ معاملات خرابی کی طرف نہیں جائیں گے۔
عمران خان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ ان کا دل کہتا ہے کہ آج ایک فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ چند گھنٹے میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا لائحہ عمل پیش کریں گے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے لیے حکومت کا چلانا مشکل ہوجائے گا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے آج جمعرات 28 اگست کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ گزشتہ تین روز میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی مذاکرات میں تعطل پر بات کی اور بہترین قومی مفاد میں معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
اس ملاقات کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی رابطوں میں تیزی دیکھنے میں آئی لیکن عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے پر اصرار کی وجہ سے حکومت اور ان احتجاجی جماعتوں کے درمیان براہ راست بات چیت ختم ہو چکی ہے۔
اسی دوران حکومت نے شاہراہ دستور پر ایف سی اور پولیس کی نفری میں اضافہ کرتے ہوئے تازہ دم دستوں کو تعینات کیا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال اور مظاہرین کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔