پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپَس لینے کا فیصلہ
6 جنوری 2011حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر تین تا چھ روپے پٹرول لیوی میں کمی کی ہے۔ پٹرول میں نئی رعایت کے مطابق پٹرول کی قیمت میں پانچ روپے تہتر پیسے فی لیٹر، ہائی اوکٹین میں چھ روپے ترپن پیسے، مٹی کے تیل میں تین روپے پنتالیس پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے تریسٹھ پیسے کی کمی کی گئی ہے۔
تاہم جمعرات کے روز ایل پی جی کی قیمت میں پانچ روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا، جس سے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں ایک سو چالیس روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہائی اوکٹین پٹرول کی قیمت چورانوے روپے چھتیس پیسے، عام پٹرول کی قیمت اناسی روپے انہتر پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت بیاسی روپے پچاسی پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔
ایم کیو ایم اور جے یو آئی حکومتی اتحاد سے علیٰحدہ ہونے کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہی تھیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ دو روز قبل اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے حکومت کو اصلاح احوال کے لیے جو نو نکاتی اصلاحاتی ایجنڈہ دیا تھا، اس میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی فوری واپسی کا مطالبہ سر فہرست تھا۔ دریں اثناء وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اگر اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دی بھی جاتی ہے تو اس کے مستقبل میں پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اپوزیشن حکومت کو حالیہ دنوں میں جو ٹف ٹائم دے رہی تھی، اس میں ایک روز قبل گورنر سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعد کچھ کمی آئی ہے اوراب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رعایت دے کر اس کشیدگی میں مزید کمی لانے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا لیکن یہ ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اپوزیشن جماعتیں مستقبل میں کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔
رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد
ادارت: امجد علی