پرویز مشرف: ملک سے باہر جانے کا امکان ختم
2 اپریل 2014آئین توڑنے پر غداری کے مقدمے کا سامنا کرنے والے جنرل پرویز مشرف نے پیر 31 اگست کو خصوصی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کے لیے وزرات داخلہ کو تحریری درخواست دی تھی۔
اس درخواست پرحکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے باہم مشاورت بھی کی تھی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں عسکری قیادت کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت نے ان کی درخواست مسترد کر دی تو پھر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستانی فوج جنرل مشرف کو محفوظ راستہ مہیا کر کے انہیں بیرون ملک بھجوانا چاہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’’مشرف مسلسل افواج کو اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف ایک الگ آدمی ہے کبھی وہ ایک حاضر سروس جنرل تھے اب وہ ایک سیاستدان ہیں۔ خود ہی تو اپنی پارٹی بنائی ہے ۔ اب اتنا شوق تھا سیاسی جماعت بنانے کا تو اب اس کو بھگتیں بھی سہی نا۔‘‘
اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جنرل مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کرنیوالی پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی نے کہا: ’’ہمارا بھی وہی مؤقف ہے کہ اگر عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کر دی ہے تو وہ ایک دفعہ اپنی سزا بھگت لیں اس کے بعد ان کو جانا ہے۔‘‘
حزب اختلاف کی ایک اور جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دیتی تو پھر اسے بہت سے سوالات کا جواب دینا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا: ’’جو باہر گیا وہ پھر واپس آیا ہی نہیں ہے۔ تو اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے اور اے این پی سمجھتی ہے کہ اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے کیونکہ ساٹھ سال میں جو اس ملک کے ساتھ ہوا جو آج تک اس میں پھنسا ہوا ہے وہ ان ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں جو گیند حکومت کے کورٹ میں پھینکی تھی حکومت نے وہ گیند ایک مرتبہ پھر عدالتی کورٹ میں ڈال دی ہے۔