چینی حکومت کا گوگل پر سیاست بازی کا الزام
23 مارچ 2010معروف انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نےکل پیر کو عوامی جمہوریہ چین میں اپنے لئے مسلسل مشکل ہوتے جا رہے حالات کار کے نتیجے میں چینی زبان میں اپنی مرکزی ویب سائٹ اور سرچ انجن بند کر دئے تھے۔ ماہرین کے بقول اس طرح چینی انٹرنیٹ صارفین بھی اپنی زبان میں معلومات حاصل کر سکنے کے حوالے سے باقی ماندہ دنیا سے کافی حد تک کٹ کر رہ جائیں گے۔
گوگل کو چین میں گزشتہ کافی عرصے سے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔ اسے بیجنگ حکومت کے بہت سے بالواسطہ فیصلوں کی صورت میں لگائی گئی سنسرشپ کے خلاف بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی تھی۔
پیر کے روز اس امریکی کمپنی نے نہ صرف چین میں اپنا مرکزی سرچ انجن بند کر دیا، بلکہ چینی صارفین کی طرف سے انٹرنیٹ پر چینی زبان میں معلومات کے حصول کی کوششوں کو ہانگ کانگ میں ایک ایسے انجن کی طرف بھیجا جانے لگا، جہاں کوئی بھی سرچ رزلٹ سنسر نہیں کیا جاتا۔
آج منگل کے روز بیجنگ میں چینی حکومت کے انٹرنیٹ سے متعلقہ امور کے نگران ادارے کے ایک اہلکار کی طرف سے یہ کہا گیا کہ گوگل نے چینی صارفین کو مطلوب معلومات ہانگ کانگ میں ایک سرچ انجن کے ذریعے غیر سنسرشدہ حالت میں مہیا کرنے کا جو عمل شروع کیا ہے، وہ اس کمپنی کی طرف سے چین میں کاروبار شروع کرتے وقت کئے گئے تحریری وعدے کی خلاف ورزی ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اس اہلکار کے ایک بیان میں کہا گیا کہ بیجنگ حکومت کی رائے میں گوگل کا رویہ غیر منطقی اور الزامات سے عبارت رہا ہے۔ اس کے علاوہ چینی حکومت اس امر کی مخالفت میں بھی کسی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرے گی کہ گوگل کی طرف سے خالص تجارتی معاملات کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ہانگ کانگ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چین کے اس خصوصی انتظامی علاقے کی چین میں کام کرنے والی ایک بڑی انٹرنیٹ کمپنی ٹوم آن لائن نے گوگل کے ساتھ اپنی تجارتی شراکت داری ختم کر دی ہے۔
یہ کمپنی ہانگ کانگ کے ایک ارب پتی تاجر لی کا شِنگ کی ملکیت ہے اور Tom Online نے گوگل کی طرف سے چین میں انٹرنیٹ سرچ کے نتائج کو سنسرنہ کرنے کے فیصلےکےپس منظر میں کہا کہ ٹوم آن لائن چین میں اپنے کاروبار سے متعلق تمام قوانین اور سرکاری ضابطوں کا احترام کرتی رہے گی۔
چین میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد کا اندازہ 400 ملین لگایا جاتا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا چین کی انٹرنیٹ سرچ مارکیٹ میں حصہ گزشتہ برس کے آخر تک قریب 36 فیصد بنتا تھا۔
رپورٹ: عصمت جبیں
ادارت: مقبول ملک