غزہ پر اسرائیلی حملے میں دس افراد ہلاک
30 اکتوبر 2011خبر رساں ادارے اے پی نے فلسطینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملے میں نو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان ابو ادھم سالمیہ کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے اہداف پر مختلف حملوں میں نو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔ دسویں فلسطینی کی ہلاکت اتوار کے روز ہوئی۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان مِکی روزینفیلڈ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں رہائشی علاقوں پر راکٹ گرنے سے ایک شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ پر چار حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج نے اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے فلسطینی شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔ یہ غزہ کے ان متعدد گروپوں میں سے ایک ہے، جو اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر راکٹ فائر کرتے ہیں۔
فوج کے مطابق پہلا حملہ بالخصوص اس ٹھکانے پر کیا گیا جہاں سے بدھ کو ایک راکٹ فائر کیا گیا تھا۔ یہ راکٹ اسرائیلی علاقے میں کافی اندر گرا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ اے پی کے مطابق ترجمان نے فوجی ضوابط کے مطابق یہ باتیں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر بتائیں۔
اسلامی جہاد کے ترجمان ابو احمد نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک مقامی فیلڈ کمانڈر احمد شیخ خلیل بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیل ان کے گروپ میں بم بنانے والا اعلیٰ رکن تھا۔
اسرائیلی فوج نے ڈرون طیارے کے ذریعے ہفتے کو بنائی گئی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں فلسطینیوں کو راکٹ حملے کی تیاری کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد اسرائیلی علاقے میں راکٹ گرے۔
اے پی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنوبی علاقوں اور شدت پسند گروپ حماس کے زیر کنٹرول غزہ پٹی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ معمول ہے، لیکن گزشتہ کئی مہینوں میں پیش آنے والا یہ بدترین واقعہ ہے۔
رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے
ادارت: افسر اعوان