لاہور شہر فٹ بال کے بین الاقوامی میچ کا میزبان
17 جون 2011عالمی کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کا میچ اگلے ماہ لاہور میں کھیلا جائے گا۔ پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کی مضبوط ٹیم کا سامنا ہو گا۔ لاہور میں یہ میچ تین جولائی کو ہو گا۔ فیفا کی جانب سے اس میچ کے انعقاد کا اعلان بنگلہ دیش کی جانب سے سکیورٹی اعتراض کے باوجود بھی کیا گیا ہے۔
لا ہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر سن 2009 میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے کے بعد تین جولائی کو پہلی بار کوئی اہم بین الاقوامی میچ پاکستان میں کھیلا جائے گا۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے دوران سات افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ سری لنکا کے کھلاڑی اس حملے میں بال بال بچے تھے۔ اس حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے تقریباً شجر ممنوعہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس دوران افغانستان کی کرکٹ ٹیم تین ایک روزہ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کر چکی ہے۔
لاہور میں فٹ بال میچ کا انعقاد کرانے کے حوالے سے فیفا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس میچ کے حوالے سے ایشیئن فٹ بال کنفیڈریشن اور مقامی منتظمین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ فیفا کی جانب سے میچ کے انعقاد کا بیان روئٹرز نے جاری کیا ہے۔ اس بیان میں فیفا نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں رواں برس مارچ کے مہینے میں اولمپک کھیلوں کے لیے کوالیفائنگ میچ کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ ملائشیا کے خلاف یہ میچ لاہور شہر کے پنجاب اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ امکاناً تین جولائی کا میچ بھی اسی میدان پر کھیلا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی فٹ بال فیڈریشن کے صدر قاضی صلاح الدین نے کہا ہے کہ فٹ بال کے عالمی ادارے نے میچ کے کسی اور مقام پر انعقاد کے لیے ان کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ صلاح الدین کے مطابق یہ درخواست اس ماہ کے اوائل میں زیورخ میں منعقدہ کانگریس کے دوران کی گئی تھی۔ بنگلہ دیش نے دونوں مرحلوں کے میچ ڈھاکہ میں منعقد کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس دوران بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کے غیر ملکی کوچ رابرٹ روبچچ (Robert Rubcic) کو بنگلہ دیشی فیڈریشن نے مالی تنازعے کے باعث فارغ کردیا ہے۔ ایسا خیال بھی کیا جا رہا تھا کہ یورپی ملک کروشیا سے تعلق رکھنے والے کوچ پاکستان جانے پر بھی پس و پیش کر رہے تھے۔
رپورٹ: عابد حسین
ادارت: شامل شمس