چین اور امریکا کے مابین تجارتی کشیدگی میں کمی کے اشارے
10 اپریل 2018چینی صدر نے ایشیا کے لیے سالانہ ’بوآؤ فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ان کا ملک غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید آسان پالسیاں متعارف کرائے گا۔ چینی صوبے ہائی نان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی نے کہا کہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس میں کمی کرنے، مزید منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر اور آسان شرائط جیسی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کی جانب سے یہ اعلان امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم چینی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ ان ضوابط پر کب سے عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔ شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں، جس میں املاک دانش سے متعلقہ حقوق کا بھی مزید خیال رکھا جائے گا۔ قبل ازیں امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف انہی حقوق دانش کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے چینی درآمدات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
چین امریکا کے ساتھ ’تجارتی جنگ‘ میں ہر قیمت ادا کرنے کو تیار
چینی صدر نے مغربی ممالک کے ان سرمایہ کاروں کے خدشات بھی دور کرنے کی کوشش کی، جن کا کہنا ہے کہ چین میں مشترکہ ملکیتی کاروباری اداروں میں انہیں غیرمنصفانہ چینی قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدر شی کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اضافی ملکیتی حقوق کی فراہمی کے لیے جلد از جلد قوانین میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ چین کی طرف سے ان اعلانات کے ساتھ ہی ایشیا اور دیگر بڑی بین الاقوامی تجارتی منڈیوں میں بہتری آئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان اعلانات کے بعد دنیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور امریکا کے مابین تجارتی کشیدگی میں کس قدر کمی ہو گی؟ لیکن پیر نو اپریل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی ایک سازگار بیان سامنے آیا تھا۔
ادلے کا بدلہ: چین نے بھی جوابی ٹیکس لگا دیے
بلومبرگ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا، ’’کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ممکن ہے کہ چین کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیا جائے۔‘‘ دریں اثناء غیر ملکی سرمایہ کاروں نے چینی صدر کی طرف سے اصلاحات کے تازہ ترین اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
آئی اے / ایم ایم